Posts

Showing posts with the label Essay Writing

What is Blood Pressure | بلڈ پریشر کیا ہے ؟ | Health| Urdu Essay| BP reading

Image
   بلڈ پریشر کیا ہے ؟    بلڈ پریشر یا فشار خون دراصل خون کا دباؤ جو کہ شریانوں کے مخالف پیدا ہوتا ہے، شریانیں، oxygenated خون دل سے لیکر تمام جسم میں سپلائی کرتی ہیں، جسم میں موجود خون کا دباؤ روزانہ کی بنیاد پر بڑھتا ہے اور آہستہ آہستہ یہ پریشر کم ہوتا جاتا ہے، بلڈ پریشر systolic اور diastolic ہوتا ہے، بلڈ پریشر کی نارمل رینج 120/80 ملی میٹر مرکری ( 120/80mmHg) ہوتی ہے۔  *1- سسٹالک بلڈ پریشر:* دل کے دھڑکنے کے وقت شریانوں میں پیدا ہونے والا دباؤ سسٹالک بلڈ پریشر کہلاتا ہے جوکہ 120 ملی میٹر مرکری ہے۔ *2- ڈسٹالک بلڈ پریشر:* شریانوں پہ پڑنے والا وہ دباؤ جو دل کی دو دھڑکن کے درمیانے وقفے میں پیدا ہوتا ہے ڈسٹالک پریشر کہلاتا ہے جس کی پیمائش 80 ملی میٹر مرکری ہے۔ *1- بلند فشار خون:* خون کا وہ دباؤ جو کہ نارمل رینج سے بڑھا ہوا ہو، بلند فشار خون کہلاتا ہے اسے ہائپر ٹینشن، Hypertension بھی کہتے ہیں، ایسے موقع پر اکثر ڈاکٹرز یہ چیک کرتے ہیں کہ آیا آپ کا ڈسٹالک یا سسٹالک بلڈ پریشر بڑھا ہوا ہے، عموماً بلڈ پریشر 140/90mmHg بڑھا ہوا تصور کیا جاتا ہے، ہمارے روزمرہ کے افعال سر ...

Waqt ki Pukaar | وقت کی پکار | Urdu Essay

Image
حال اور  مستقبل کے   بعض  مذہبی خطرات  پر  جامع اشرف  کچھوچھہ مقدسہ   کے سابق    استاذ      مولانا مفتی       رضاء الحق اشرفی  Razaulhaq   Ashrafi  (اہلِ سنت ریسرچ سینٹر, کچھوچھہ مقدسہ) کی ایک بیش قیمت تحریر : 🌹 وقت  کی   پکار 🌹  ہر  دور میں حالات  اور  تقاضوں کے مطابق  علماے اہل سنت وجماعت نے اپنی  زبان و قلم  کے  ذریعہ   ابھرتے ہوے  باطل فرقوں  کی سرکوبی  کے لیے  جدوجہد کی ہے.  ہندوستان میں  شیعہ امراء و نوابین کے خاتمہ کے ساتھ شیعیت کا جنازہ بھی تقریباً نکل چکاتھا. لیکن پچھلی دو  تین  دہائیوں سے  سرحد پار سے بہت  تیزی  کے  ساتھ    رافضیت  و شیعیت،  حُبِّ اہلِ بیت کے نعروں کے ساتھ ہندوستان میں داخل ہورہی ہے. اسے    دشمنانِ اسلام   کی       خفیہ پشت پناہی   بھی  حاصل  ہے....

Mobile Phone Boon or Bane || Urdu Essay || موبائل فون کی خرابیا

Image
   موبائل فون کی خرابیاں    الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على اشرف المرسلين وعلى اله وصحبه اجمعين. اما بعد  اعوذ بالله من الشيطان الرجيم  بسم الله الرحمن الرحيم اللہ تعالٰی نے ہم سب کو ان گنت نعمتوں سے نوازا ہے جن سے ہم آئے دن فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ان تمام نعمتوں میں سب سے عظیم نعمت ایمان و ہدایت کے بعد عقل سلیم ہے ، اسی عقل کی بنیاد پر ہم ہر روز نئ نئ چیزیں ایجاد کر رہے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہ عقل ہمیں کہا سے آئی ، اس کا علم ہمیں کس نے عطا کیا؟ اس کا جواب اللہ رب العزت نے چودہ سو سال پہلے ہی ہمیں دے دیا۔ ارشاد باری ہے: علم الانسان مالم يعلم_ ( آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا ۔کنزالایمان )  یہ اس ذات باری کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں وہ سکھایا جو ہم نہیں جانتے تھے۔ اور ہم اسی کی عطا کردہ نعمت عقل سے ہر روز نئ نئ چیزیں ایجاد کرتے ہیں اور اس کی نعمتوں سے ہم اپنی زندگی آسان بنا رہے ہیں۔ ذرا ایر کنڈیشن کی آسانی  دیکھیے ، ایک آدمی سخت گرمی میں ایر کنڈیشن کی مدد سے اپنے روم کو اور خود کو بھی ٹھنڈا رکھ رہا ہے، اور ہیٹر کی سہولت دیکھیے۔ آ...

| Plastic | Elimination of Single Use of plastic ( Essay in Urdu ) || ( اردو مضمون ) پلاسٹک کے واحد استعمال کا خاتمہ

Image
پ لاسٹک کے خاطمے کی مہم یوں تو پلاسٹک سے بچنا ہمارے لیے مشکل معلوم ہوتا ہے ، لیکن اگر اس کے نقصانات پر غور کیا جائے تو اس پر کنٹرول کرنا مشکل بھی نہیں کیونکہ جان ہے تو جہان ہے۔   اہل تحقیق کا کہنا ہے کہ پلاسٹک ہر جاندار کے لیے مضر ہے۔ اگر یہ درختوں کے پاس ڈال دی جائے تو درختوں کے نشو و نما کو برباد کردیتی ہے۔ اگر یہ کسی مویشی کے پیٹ میں چلی جائے تو وه بیمار پڑ جاتا ہے۔ اور اگر انسان استعمال کرے تو کیسنر جیسے موذی امراض کا شکار ہو سکتا ہے۔ اگر اسے جلایا جائے تو فضا میں الودگی پیدا کرتی ہے جس سے سانس کے مریضوں کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ یہی پلاسٹک ہے کہ سڑکوں کی گندگی اور نالیوں کے بند ہونے کا سبب بنتی ہے۔   لہذا معاشرے کے ہر فرض کو چاہئیے کہ وہ ہر ممکن کوشش کرے اور اس کے خاتمے کے لیے ہر تدبیر بروئے کار لائے کہ جیسے بھی ہو پلاسٹک کا استعمال کُلّیتاً روکا جاسکے۔ اسکے لیے ہم یہ کر سکتے ہیں   ہمیں چاہیئے کہ جب بھی بازار جائیں تو کپڑے کا ٹھیلا ساتھ لے کر جائیں اور دکاندار کو بھی چاہئیے کہ وہ اپنا سامان فروخت کرتے وقت کاغذ کے تھیلوں کا استعمال کرے، اور گھروں میں ...